دو سو سالہ مقاومت

:: دو سو سالہ مقاومت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دوسوسالہ مقاومت

خدا کا شکرگزار ہوں جس نے   اس مقام پر حاضر ہونے کی توفیق عطا فرمائی جو استعمارکہن سے لڑنے  اورمبارزہ  کرنے والے  سربازوں کی سرزمین ہے اپنی بات نوجوانوں کی توجہ امام مسلمین  کے  استعمار کے بارے میں اس فرمان کی طرف توجہ دلانے سے شروع کرتے ہیں جسے  انہوں  نے استعمار فرانو (جدید استعمار)  کا نام دیا ہے۔ انقلاب ِاسلامی کو وقوع پذیر ہوئے 36سال ہوچکے ہیں ،جمہوری اسلامی وجود میں آچکا ہے،اب ضروری نہیں کہ استعمار کے فوجی ہمارے ملک میں آئیں اور ہم  اپنی ہی سرزمین  کے اندر  ان کے قبرستان بنانے  کی بات کریں۔ یہ بات انقلاب اسلامی   اورجمہوری اسلامی سے پہلے کے دور کی بات تھی۔پچھلے آٹھ سال میں میں ہم نے  صیہونی حکومت کے سر پر دس ہزار سے زائد راکٹ داغے ہیں۔ 2006 میں  33 دن، 2008 میں 22دن، 2011 میں 8دن اور اس سال موسم گرما میں 51 دن تک صیہونیت ہمارے راکٹوں کی زد پر تھی۔  اب ضروری نہیں  کہ ہم اپنے ملکی  بارڈر کے اندر استعمار، استثماراوراستحمار کے فرزندوں، آلہ کاروں اورمزدوروں کے روبرو ہوں۔ 1981  سے1986تک کے دور کو رونالڈ ریگن انتظامیہ ستاروں کے درمیان جنگ کا زمانہ کہتی تھی، اس دوران انہوں نے سابقہ سویت یونین کے خلاف دنیا کی عظیم ترین دفاعی صلاحیت کو بنایا تاکہ سویت یونین کی طرف سے کوئی بھی راکٹ اورمیزائل امریکی زمین تک نہ پہنچ سکے۔

پورا مضمون پڑھنے کے لئے نیچے دئیے گئے لنک "آگے پڑھیں" پر کلک کریں۔

 

منبع : ڈاکٹر حسن عباسی ﴿اردو زبان میں﴾دو سو سالہ مقاومت
برچسب ها : استعمار ,اسلامی ,سویت یونین ,ضروری نہیں

صیہونی مسلمان

:: صیہونی مسلمان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مسلمان صیہونی

اسٹریٹیجک چوائس

اسلام آج سختی کے دور سے گزر رہاہے۔پندرہ سولہ اسلامی ممالک میں اسلام کی درست شناخت نہ ہونے کی وجہ سے شدید مسائل و مشکلات کا شکار ہیں اور دوسری طرف اسلامی متفکر ین نے بھی اس سلسلے میں کوئی کام نہیں کیا اور مسلمان تفرقہ کا شکار ہیں۔کچھ سال پہلے ٹونی بلیئر جب خلیجی ممالک میں آیا تھا تو اس نےایران کے لئے ایک اصطلاح کا استعمال کیا کہ ایران کے لئے ایک ہی اسٹریٹیجک چوائس ہے۔اس کا ہدف یہ تھا کہ مسلمان مسلمان سے لڑے۔یہ ڈاکٹرائن سی آئی اے نے اسے دوسری جنگ عظیم کے بعد ویت نام کی جنگ کے لئے بنایا تھا۔ امریکی صدر نکسن کے دور میں شاہ ایران نے عمان کے شاہ قابوس کے کہنے پر فوجی مداخلت کی۔اس ڈاکٹرائن کا ہدف یہ ہے کہ ایشیائی ، ایشیائی سے جنگ کرے۔ٹونی بلیئر نے خلیجی ممالک کے دورے کے دوران جس اسٹریٹیجک چوائس کا تذکرہ کیا تھا اس کا ہدف یہ تھا کہ مسلمان مسلمان سے لڑے۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ کے بعد یہی القاعدہ کا گروہ امریکہ اور سعودی عرب سے پیسہ لے رہا ہے اور عراق ، شام ، بحرین اور دوسری جگہوں پر کشتار عظیم انجام دے رہاہے۔ اسی القاعدہ اور اس جیسے دوسرے گروہوں کی مدد سے شیعوں کا قتل کیا جارہاہے۔ عراق میں اپنے ہی لوگوں کے قتل عام کے لئے ان ملکوں سے پیسہ لے کے گروہ بنائے گئے ہیں۔

پورا مضمون پڑھنے کےلئے "آگے پڑھیں" پر کلک کریں۔

 

منبع : ڈاکٹر حسن عباسی ﴿اردو زبان میں﴾صیہونی مسلمان
برچسب ها : مسلمان ,دوسری ,ممالک ,چوائس ,اسٹریٹیجک ,اسٹریٹیجک چوائس ,مسلمان مسلمان ,خلیجی ممالک

تیس سالہ مذھبی جنگوں کا منصوبہ اورعظیم مڈل ایسٹ

:: تیس سالہ مذھبی جنگوں کا منصوبہ اورعظیم مڈل ایسٹ

تیس سالہ مذھبی جنگوں کا منصوبہ اورعظیم مڈل ایسٹ

عوامی نظر سے، آج کا جدید یورپ تاریخ کے ابتدائی دورسے ہی ایک ترقی یافتہ تہذیب وتمدن رہا ہے جہاں کے عوام ہمیشہ سے جمہوریت کے خواہاں تھے اورصلح وصفائی ان کی زندگی کا لازمی حصہ رہا ہے۔ہرمغربی شہر اورملک کے نام جیسے پیرس، لندن، روم، فرانس، انگلینڈ اوراٹلی عوام کے اذہان میں زمینی جنت کا سا ہے کہ جہاں زندگی گزارنے کی ہر انسان آرزو اورخواہش رکھتا ہے۔

خصوصاً وہ لوگ کہ جو یورپ کے بارے میں اس طرح کا خیال رکھتے ہیں ان کے اذہان میں اس تصور کا لانا بہت مشکل ہوتا ہے  کہ ایک وقت تھا جب پیرس، برلن،لندن اورروم میں کیتھولک اورپروٹسٹنٹوں کے جسموں، گوشت اورہڈیوں کے انبارڈھیروں کی صورت میں پڑے ہوتے تھے

پورا مضمون پڑھنے کے لئے آگے پڑھیں پر کلک کریں۔

منبع : ڈاکٹر حسن عباسی ﴿اردو زبان میں﴾تیس سالہ مذھبی جنگوں کا منصوبہ اورعظیم مڈل ایسٹ
برچسب ها : منصوبہ اورعظیم ,مذھبی جنگوں ,سالہ مذھبی ,سالہ مذھبی جنگوں